پشاور کا آٹو رکشا ڈرائیور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے لفٹ دے رہا ہے

اردو باز نمائندہ پشاور کے مطابق پشاور کا رہاشی جس کا نام عرب شاہ ہے اس کی خواہش ہے کہ وہ لڑکیوں تک یہ پیغام پہنچائے کہ تعلیم نہ صرف پاکستان بلکہ ان لڑکیوں کے اپنے مستقبل کے لیے  بھی انتہائ اہم ہے۔ اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے عرب شاہ اس معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عرب شاہ جس کی عمر 29 سالہ ہے، پشاور شہر  کی تقریبا 100 لڑکیوں کو روزانہ اپنے آٹو رکشہ میں مفت  بگیر کسی لالچ کے اسکول سے گھر اور گھر سے اسکول ڈراپ کرتا ہے تاکہ وہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھیں اور علم حاصل کریں۔ عرب شاہ کا مشن ہے کہ وہ پشاور میں تعلیم کو فروغ دے۔

عرب شاہ نے جب پیر بالا کے علاقے میں ایک سرکاری اسکول سے طالبات کو گھر چھوڑنے جارہے تھے ان کا کہنا تھا کہ "میری پانچ بڑی بہنیں  ہیں جو مختلف وجوہات کے بنا پر تعلیم حاصل نہیں کر سکیں لیکن اب میں دوسروں کی بیٹیوں اور بہنوں  کے حصول علم میں مدد کرنا  چاہتا ہوں اور ملک پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں”۔

شاہ لڑکیوں کو حصول علم میں مدد فراہم کرنے کا  جذبہ اس قدر بھرا ہوا ہے کہ وہ غریب خاندانوں کو  اپنے محدود وسائل کے باوجود مفت سواری  کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔

اس کا کہنا  تھا کہ لڑکیوں کو اسکول لے جانے اور واپس چھوڑنے کے لیے، اسے صبح اور شام کے وقت کافی چکر لگانے پڑتے ہیں جس سے اس کا بہت زیادہ وقت اور پٹرول خرچ ہوتا ہے اور آمدنی میں بھی اس نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شاہ کے مطابق وہ عام طور پر مہینے میں اوسطا 30,000 روپے (200 ڈالر) کماتا ہے جس میں سے تقریبا آدھی کمائی اسکی مفت سواری فراہم کرنے کی مہم میں خرچ ہو جاتی ہے۔

عرب شاہ کا مزید کہنا تھا کہ "لڑکیوں کے  حصول علم کےلیے مفت سواری فراہم کرنے پر آنے والا خرچہ میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا”۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ممکن ہو سکے گا  وہ یہ خدمت فراہم کرتے رہیں گے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ لڑکیاں صرف اس وجہ سے علم حاصل نہ کر سکیں کہ ان کے والدین تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.