نواز شریف دور میں چوہدری سرور نےگورنری کیوں چھوڑی تھی اور اب ایک بار پھر کیوں انہیں فارغ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں ؟ نامور صحافی نے گورنر پنجاب کی ذات میں ہی بڑی کمزوری ڈھونڈ نکالی



چودھری محمد سرور دوسری مرتبہ پنجاب کے گورنر بنے ہیں، پارلیمانی نظام میں یہ آئینی عہدہ ہے اور صوبے میں چیف ایگزیکٹو کے اختیارات وزیراعلیٰ کے پاس ہیں جو منتخب ہوکر صوبائی اسمبلی کے رکن بنے اور پھر انہیں ارکان کی اکثریت نے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز کیا۔ وزیراعظم کی نگاہ میں وہ وسیم اکرم پلس ٹھہرے اور ان سے بڑی امیدیں

وابستہ ہیں، یہ تو وقت بتائے گا کہ وہ ان پر کس حد تک پورا اترتے ہیں لیکن گورنر سرور کی یہ خواہش ضرور سامنے آتی رہی ہے کہ وہ صوبے میں کچھ کرکے دکھائیں، لیکن وہ تھوڑا سا آگے بڑھتے ہیں تو ان کی آئینی پوزیشن راستے کی دیوار بن جاتی ہے۔ جب وہ نوازشریف کی وزارت عظمیٰ میں پہلی مرتبہ گورنر بنے تھے تو اس وقت بھی انہوں نے پنجاب کے عوام کو صاف پانی کا تحفہ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن وہ اس کے بغیرہی رخصت ہوگئے، کیونکہ ان کا ”کچھ اور چاہیئے وسعت مرے بیاں کے لئے“ والا رویہ پسند نہیں کیا گیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے گورنری چھوڑ دی اور کوئی وقت ضائع کئے بغیر تحریک انصاف کا رخ کرلیا، ان کے قریبی حلقے اس وقت بھی یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کا اصل منصوبہ تو تحریک جائن کرنے کا تھا جہاں ان کے چھوٹے بھائی پہلے سے موجود تھے اور ”دامے، درمے، سخنے“ تحریک انصاف کی سرپرستی کرتے تھے، چودھری سرور البتہ یہ چاہتے تھے کہ تحریک انصاف میں جانے سے پہلے وہ کسی پبلک عہدے پر خدمات انجام دیں۔ اس لئے وہ پہلے گورنر بنے اور اس تاثر کے بعد عہدہ چھوڑا کہ انہیں کام کرنے نہیں دیا گیا، حالانکہ اگر وہ

کام نہیں کرسکے تھے تو اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں تھا۔قصور اس عہدے کا تھا جو گورنر کو پابند کرتا ہے کہ وہ دور غلامی کی یادگار گورنر ہاؤس میں رہیں اور جو فائلیں ان کے پاس ضابطوں کے تحت بھیجی جائیں ان پر دستخط کرتے رہیں، لیکن وہ عوام کی محبت سے مجبور ہوکر آئینی ذمے داریوں سے بڑھ کر بھی کچھ کرنا چاہتے تھے جو ان کے لئے نہ اس وقت ممکن تھا نہ اب ہے، دوبارہ گورنر بننے پر بھی انہوں نے بعض ایسے کام سرانجام دینے کی کوشش کی جو چیف ایگزیکٹو کا اختیار ہے لیکن جب ان سے شکایت پیدا ہوتی تو انہوں نے وضاحت کردی کہ وہ کسی کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر رہے، حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں اسے صوبے کے عوام کی خدمت کہتے ہیں جس کے لئے ان کا دل مچلتا رہتا ہے۔ انہیں بہت افسوس ہے کہ پنجاب کے عوام کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا اس کیلئے انہوں نے سرور فاؤنڈیشن بنائی، لیکن یار لوگوں کو ان کا یہ نیک کام بھی پسند نہیں، چنانچہ اب انہوں نے اعلان کردیا ہے کہ وہ سرور فاؤنڈیشن سے الگ ہو رہے ہیں، چند روز قبل انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ بھی کہہ دیا تھا کہ سارے کام جہانگیر

ترین ہی نے کرتے یں تو کیا وہ آلو چنے بیچنے کے لئے آئے ہوئے ہیں بظاہر اس بیان میں ایک قسم کا قلق جھلکتا ہے۔ اے ٹی ایم کے نام سے معروف جہانگیر ترین کو اتنی آسانی سے راستے سے نہیں ہٹایا جاسکتا، کیونکہ کچھ معلم نہیں کب ان کی اور ان کے جہاز کی ضرورت پڑ جائے،وفاق میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت بی این پی (مینگل) نے ایک بار پھر یہ شکوہ شروع کردیا ہے کہ ان کے ساتھ حکومت کے ساتھ تعاون کے عوض جو وعدے وعید کئے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے، اس جماعت کے پاس قومی اسمبلی کی چار نشستیں ہیں اور اتنی ہی اکثریت وزیر اعظم عمران خان کو وزیراعظم منتخب ہوتے وقت حاصل ہوئی تھی۔ بی این پی نے کابینہ میں کوئی وزارت بھی نہیں لی جبکہ بعض دیگر جماعتوں نے اپنے حصے سے بھی زیادہ وزارتیں لے رکھی ہیں۔ اگر بی این پی نے حکومت سے اپنے راستے الگ کر لئے تو اس کے لئے مشکل ہوگی۔ پنجاب میں بھی صورتحال مختلف نہیں، اس فرق کے ساتھ کہ مسلم لیگ (ق) کھل کر حکومت کا ساتھ دے رہی ہے اور اس نے اعلان کر رکھا ہے کہ جب تک عثمان بزدار وزیراعلیٰ ہیں وہ ان کے ساتھ ہے اس کا یہ مطلب

بھی لیا جاسکتا ہے کہ عثمان بزدار کو ہٹایا گیا تو ضروری نہیں وہ حکومت کا ساتھ جاری رکھے، لیکن سپیکر کا منصب چونکہ مسلم لیگ (ق) کے پاس ہے اس لئے دونوں جماعتوں کا اتحاد چلتا رہے گا۔ چودھری سرور کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ اگر وہ گورنر کے اختیارات تک محدود نہیں رہنا چاہتے تو قومی اسمبلی یا پنجاب اسمبلی کا الیکشن لڑیں اور وفاقی وزارت یا کسی دوسرے صوبائی منصب پر فائز ہوکر عوام کی خدمت کی اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنائیں۔ انہوں نے گورنر کے عہدے سے استعفے کی تردید کی ہے، یہ بھی کہا ہے کہ وہ میدان چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے۔ایسی صورت میں انہیں بہرحال گورنر کے اختیارات تک ہی محدود رہنا ہوگا اور اپنا کردار ”کتاب کے مطابق“ ادا کرنا ہوگا۔ چودھری سرور کا خیال ہے کہ 2018ء کے الیکشن سے پہلے انہوں نے پنجاب میں امیدواروں کی جو فہرست تیار کی تھی اگر انہیں الیکشن لڑوایا جاتا تو تحریک انصاف کو دوتہائی اکثریت حاصل ہو جاتی، بظاہر تو ان کے اس دعوے میں مبالغہ نظر آتا ہے کیونکہ عملاً تو تحریک انصاف پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے بعد دوسرے نمبر پر آئی تھی یہ تو آزاد امیدوار تھے جن کی

شمولیت سے وہ اکثریتی جماعت بن گئی۔ یہ اکثریت بھی مسلم لیگ (ق) کے تعاون سے قائم ہے اور اتنی تھوڑی ہے چند ارکان ادھر ادھر ہونے سے حکومت کا خاتمہ ہوسکتا ہے اس لئے حیرت ہوتی ہے کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے دوتہائی اکثریت کی کامیابی کا راستہ چھوڑ کر ایسا راستہ اپنایا کہ اکثریت بھی نہ مل سکی، معلوم نہیں چوھری سرور کا مشورہ کیوں نہ مانا گیا، لیکن اگر ایسا ہے تو پنجاب میں اس تجربے کا اب بھی امکان ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اسمبلی توڑنے کی گورنر کو ایڈوائس بھیج دیں اور صوبے میں نئے سرے سے انتخابات کرا لئے جائیں۔ چودھری سرور کے دعوے کے مطابق تو دوتہائی اکثریت مل جائے گی، لیکن ایسا نہ بھی ہو تو سادہ اکثریت کی امید تو رکھی جاسکتی ہے اور اگر ”کمفر ٹیبل میجارٹی“ بھی حاصل ہو جائے تو موجودہ صورتحال سے تو کہیں بہتر ہوگا، کیونکہ موجودہ پنجاب حکمت تو کچے دھاگے سے بندھی ہوئی ہے جو کسی وقت بھی ٹوٹ جانے کے امکانات نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔(تحریر: قدرت اللہ چوہدری )



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
اسلام آباد سٹاک ایکسچیج کی عمارت میں آگ لگ گئی
جعلی اکاؤنٹس کیس: انور مجید کے ایک اور بیٹے ذوالقرنین مجید گرفتار
المناک حادثے نے پاکستانیوں کی آنکھیں نم کردی
زرداری ، حمزہ شہباز کی گرفتار ی کے بعد فریا ل تالپور کی گرفتاری
مریم نواز کے سیکورٹی اسکواڈ کی گاڑی بڑے حادثے سے بچ گئی
پاکستانیوں کیلئے انتہائی افسوسناک خبر آگئی

تازہ ترین ویڈیو
ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی رمضان ٹرانسمیشن کے دوران غیر مناسب باتیں
جنرل راحیل کی دھمکی پر بھارتی پاگل ہوگئے،دیکھیں پاکستانی تجزیہ نگار نے بھی بھارتی کی چھترول کردی
پاکستان مخالف تقریر کرنے پر پاکستانی نوجوان نے لندن ائیرپورٹ پر محمود خان اچکزئی کو گالیاں اور اور ہاتھا پائی
اگر ایاز صادق کے دل میں کھوٹ نہیں تھا تو پھر وہ عمران خان کا سامنا کرنے سے کیوں بھاگے، ایاز صادق غیر جانبدارنہیں رہے۔ سنیے
مجھ سے ذاتی دشمنی نکالی جارہی ہے ۔۔۔، افسوس کہ وزیراعظم صاحب پوری بات سنے بغیر ہی اٹھ کر جارہے ہیں

Copyright © 2016 UrduBaaz.com. All Rights Reserved