فلائٹ کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے وقت موبائل بند یا فلائٹ موڈ پر رکھنے کو کیوں کہا جاتا ہے؟

جو لوگ جہاز میں سفر کرتے ہیں وہ یہ بات تو جانتے ہی ہوں گے کہ جب بھی فلائٹ لینڈ کرنے کے نزدیک ہوتی ہے یا پھرفلائٹ ٹیک آف کا وقت ہوتا ہے تو جہاز کا عملہ یہ اعلان کرتا ہے کہ جہاز میں موجود تمام لوگ اپنے موبائل فونز سوئچ آف کردیں یا اس میں مجود فلائٹ موڈ آن کرلیں ۔ جہاز کا سٹاف آپ کو الیکٹرونک ڈیوائسز کے استعمال سے بھی منع کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے مسافروں کے دماغ آخر اس بات کی طرف جاتا ہے کہ آخر یہ چھوٹا سا موبائل فون اتنے بڑے ائیر کرافٹ کے سسٹم میں خرابی کیسے کرسکتا ہے۔

آخر فلائٹ موڈ آن کروانے کی وجہ کیا ہے ؟

جب مسافروں کو موبائل فونز میں فلائٹ موڈ آن کرنے کو کہا جاتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسمارٹ فون کے فنکشنز جیسے انٹرنیٹ سروسز، وائی فائی، جی ایس ایم، بلیو ٹوتھ وغیرہ کام کرنا بند کر دیں ۔ کیونکہ اگر لینڈنگ یا ٹیک آف کے دوران مسافر حضرات اپنے موبائل فونز کو فلائٹ موڈ میں نہیں رکھتے تو اس میں سے سگنلز نکلنے کا خطرہ ہے جو جہاز کے انتہائ حساس الیکٹرونک ڈیوائسز کے سگنلز اور کام میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں ۔ کیونکہ اگر موبائل میں فلائٹ موڈ آن نا کیا گیا ہو اور اسے صرف اسکرین لاک لگا دیا جائے اور اسے استعمال نہ کیا جائے تب بھی اس میں سے ایسے سگنلز نکلیں گے جو کہ نیٹ ورک کو تلاش کرنے کا عمل جاری رکھیں گے۔ جس کی وجہ سے موبائل فون کی فریکوئنسی، جہاز کی ڈیوائسز کی فریکوئنسی میں دخل اندازی اور رکاوٹ ڈالنا شروع کردیتی ہیں۔ حالانکہ جہاز جب لینڈنگ اور ٹیک آف کر رہا ہوتا ہے اس وقت انتہائ مشکل مرحلے سے گزر رہا ہوتا ہے اور ایسے وقت میں فضا میں موجود
ائر کرافٹ کے پائلٹ کو زمین پر موجود فلائٹ کنٹرول سینٹر سے
بھی مسلسل رابطہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ یہ تمام ٹاسکس جہاز کے نیویگیشن سسٹم کے تحت ہی کیے جا رہے ہوتے ہے۔ اور اگر ایسے وقت میں مسافر اپنے فون فلائٹ موڈ میں نہیں رکھتے تو پھر اس وقت میں ان کے موبائل سے نکلنے والے سگنلز، جہاز کے پائلٹ کی جانب سے سینٹر تک رابطے میں رکھنے والی ریڈیو کمیونیکشن میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں، موبائل فونز کے ان سگنلز کی وجہ سے پائلٹ وہ ہدایات بھی نہیں سن سکتا جو کہ زمین پر موجود ائیر ٹریفک کنٹرول اس دے رہا ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر جہاز حادثے کی صورتحال سے دوچار ہوسکتا ہے۔

پھردوران فلائٹ کونسی ڈیوائسز استعمال کی جائیں؟

فلائٹ کے دوران، لینڈنگ یا ٹیک آف کے وقت بھی ایسی ڈیوائسز جن میں انٹرنیٹ ، وائ فائ یا بلیو ٹوتھ نا ہو ان کا کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس میں آپ الیکٹرونک گھڑیاں (اسمارٹ واچ نہیں) کیمرے، ویڈیو کیمرے، ویڈیو ریکارڈرز، کان میں ہیڈ فون وغیرہ استعمال کر سکتے ہیں۔ تا ہم فلائٹ کے دوران اپنے سمارٹ فون کو فلائٹ موڈ پر رکھیں یا اس بلکل ہی آف کر دیں تا کہ آپ وجہ سے جہاز کو کوئ نقصان نہ پہنچے اور باقی مسافروں کی جان بھی محفوظ رہے ۔

نوٹ: جہازوں کی ہر کمپنی کے اپنے قوانین ہوتے ہیں، کوشش کریں کہ فلائٹ سٹاف آپ کو جو ہدایات دے، اس پر آپ ضرور عمل کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.