مذہبی ہم آہنگی ، بھارتی جیل میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہندو قیدیوں کا روزہ



بھارت (نیوزڈیسک) : رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسلمان پورا مہینہ روزے رکھتے اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ اس با برکت مہینے میں ایک چھوٹی سی نیکی کا ثواب بھی ستر گنا زیادہ ہوتا ہے۔ مسلمان مذہبی فریضہ کے تحت رمضان کا پورا مہینہ روزے رکھتے اور اللہ کو یاد کرتے ہیں لیکن بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندؤوں نے

بھی روزہ رکھ کر مذہبی ہم آہنگی کی نئی مثال قائم کی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کی تہاڑ جیل میں تقریباً ایک سو 50 ہندو قیدیوں نے اپنے ساتھی مسلمان قیدیوں کے ساتھ روزہ رکھا اور ان سے اظہار یکجہتی کیا۔ تہاڑ جیل کے افسر نے بتایا کہ ہرسال ہندو قیدیوں میں روزہ رکھنے کے رحجان میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس تقریباً 59 ہندو قیدیوں نے ماہ رمضان میں روزے کے اوقات میں خود کو کھانے پینے سے دور رکھا۔ رپورٹ کے مطابق تہاڑ کی مختلف جیلوں میں تقریباً 16 ہزار 665 قیدی موجود ہیں جس میں سے تقریباً 2 ہزار 658 ہندو اور مسلمان قیدیوں نے روزہ رکھا۔ جیل افسر کا کہنا تھا کہ جیل حکام کی جانب سے مذکورہ قیدیوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تاہم گذشتہ برس کے مقابلے میں ہندو قیدیوں میں روزہ رکھنے کے رحجان میں 3 فیصد اضافہ ہوا۔ ہندو قیدیوں نے مسلمان قیدیوں کے ساتھ روزہ رکھنے کی مختلف وجوہات بیان کیں۔ کچھ نے مسلمان قیدی ساتھیوں سے اظہار یکجہتی کا طریقہ قرار دیا تو کچھ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اگر وہ خدا کو خوش رکھیں گے تو شاید ان کو جلد رہائی مل جائے۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس بھی ہندو اور مسلمانوں

کے مابین رمضان المبارک کے دوران فقید المثال مذہبی ہم آہنگی دیکھنے میں آئی تھی۔ گذشتہ برس مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوانہ میں مسلمان پڑوسیوں کو ڈھول بجا بجا کر سحری میں جگانے والے سکھ شہری کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اور تہار جیل میں قید 59 ہندو قیدیوں نے بھی اپنے 2 ہزار 299 مسلمان ساتھی قیدیوں کے ساتھ ماہ رمضان میں روزے رکھنا شروع کر دئے تھے۔ یہی نہیں بھارت کے ایک شہر میں بھی کچھ نوجوان افراد نے مل کر اسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ موجود رشتہ داروں کی سحری کے انتظام کا بیڑہ اُٹھایا تھا۔ شیلندرا ڈوبے اور ان کے دیگر ساتھی رمضان المبارک میں سحر کے اوقات سے پہلے ہی اپنے بستروں سے نکل کر سحری بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں، ایسا اس لیے نہیں کہ انہوں نے روزہ رکھنا ہوتا ہے بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ آئے رشتہ داروں کو سحری پہنچانا ہوتی ہے۔ جنوبی دہلی کے علاقہ میں ایک 32 سالہ ہندو رکشہ ڈرائیور نے رمضان المبارک میں روزہ رکھنے والے مسلمانوں کو مفت سفری سہولیات دینے کا آغاز کیا تھا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
پی ٹی ایم کارکنوں کی ہلاکت کا معاملہ، ڈی جی آئی ایس پی آر ایک بار پھر میدان میں آگئے
محسن داوڑ ساتھیوں کو اکسا کر فرار ہو گئے جبکہ علی وزیر کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا
محسن داوڑ کا ساتھیوں سمیت پاک فوج پر حملہ
افسوسناک خبر نے سب کی آنکھیں نم کردی ، 6افراد جاں بحق ، امدادی ٹیمیں روانہ
حکومتی ایوان میں بھونچال، ایم کیو ایم کے تیور بگڑ گئے، وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا
یہ لڑیں گے ہم سے جنگ۔۔۔!!! کشمیر میں بھارتی فوجی نے خود کشی کر لی،12سالوں میں مرنے والے اہلکاروں کی تعداد426تک جا پہنچی

تازہ ترین ویڈیو
ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی رمضان ٹرانسمیشن کے دوران غیر مناسب باتیں
جنرل راحیل کی دھمکی پر بھارتی پاگل ہوگئے،دیکھیں پاکستانی تجزیہ نگار نے بھی بھارتی کی چھترول کردی
پاکستان مخالف تقریر کرنے پر پاکستانی نوجوان نے لندن ائیرپورٹ پر محمود خان اچکزئی کو گالیاں اور اور ہاتھا پائی
اگر ایاز صادق کے دل میں کھوٹ نہیں تھا تو پھر وہ عمران خان کا سامنا کرنے سے کیوں بھاگے، ایاز صادق غیر جانبدارنہیں رہے۔ سنیے
مجھ سے ذاتی دشمنی نکالی جارہی ہے ۔۔۔، افسوس کہ وزیراعظم صاحب پوری بات سنے بغیر ہی اٹھ کر جارہے ہیں

Copyright © 2016 UrduBaaz.com. All Rights Reserved